احمد آباد کے محمد ایوب پر گائے اور بچھڑالے جانے کے الزام میں گؤرکشکوں نے حملہ کیا تھا
احمد آباد 17؍ ستمبر ( ایجنسی ) گجرات کی راجدھانی احمد آباد میں گؤرکشکوں نے 4؍ دن قبل 29سالہ مسلم نوجوان محمد ایوب کی بری طرح پٹائی کردی تھی ۔ شدیدزخموں سے چور اس نوجوان کو شہر کے اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں اس نے جمعہ کی شب دم توڑ دیا ۔ پولیس نے بتایا کہ محمد ایوب پر منگل کو گؤ رکشکوں نے گائے اور بچھڑالے جانے کے الزام میں حملہ کردیا تھااور اسے ادھ مرا چھوڑ کر فرار ہوگئے تھے۔ ایوب اپنے ساتھی سمیر شیخ کے ساتھ کار سے جارہے تھے۔ ان کی گاڑی میں مبینہ طور پر ایک گائے اور بچھڑا تھا۔ منگل کی صبح تقریباً تین بجے ہائی وے پر ایوب کی گاڑی ایک دوسری گاڑی سے ٹکرا گئی۔ اس حادثے میں بچھڑے کی موت ہوگئی تھی۔ پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ اس حادثے کے بعد ایوب نے موقع سے فرار ہونے کی کوشش بھی کی تھی لیکن وہاں پہلے سے موجود گؤرکشکوں نے اس کا پیچھا کر کے اس پکڑ لیا اور بری طرح پٹائی کردی تھی۔
اس واقعہ کے فوراً تین گؤرکشکوں نے محمد ایوب اور سمیر شیخ کے خلاف جانوروں کی غیر قانونی اسمگلنگ کا کیس درج کرایا تھا۔ ادھر ایوب کے خاندان کا الزام ہے کہ گایوں کی اسمگلنگ کی شکایت درج کرانے والے تینوں لوگ بھی اس کے پیٹنے والوں میں شامل تھے جبکہ ایوب گاڑی میں کوئی جانور نہیں لے جارہا تھا۔ ایوب کے بھائی کے مطابق وہ کار ایسی ہے کہ اس میں کوئی جانور کیسے لایا جاسکتا ہے۔ یہ اندازہ کار کو دکھ کر بآسانی لگایا جاسکتا ہے۔ پولیس پر انہٰں نے الزام عائد کیا کہ وہ گؤ رکشکوں کو بچانے کی کوشش کررہی ہے ۔ اس بارے میں سینئر پولیس افسر آر آر بھگت نے کہا کہ ہم نے کچھ گؤ رکشکوں کو حراست میں لیا لیکن سمیر نے ان کی شناخت نہٰں کی اس لئے ہم انہیں حراست میں نہیں رکھ سکتے ۔ ادھر ایوب کے خاندان کا الزام ہے کہ سمیر شیخ کسی دباؤ میں آکر گؤرکشکوں کو پہچاننے سے انکار کررہا ہے۔ ایوب کے چچا نے کہا کہ شکایت درج کراکر ان لوگوں نے ثابت کردیا ہے کہ وہ لوگ جائے حادثہ پر موجود تھے۔ اس لئے ان لوگوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔